ووہان کے شہری مرکز میں، سائنس فکشن کی ایک تصویر حقیقت میں بدلتی دکھائی دی۔ چین نے الیکٹرک طیاروں (ای وی ٹی او ایل) کے ایک نئے بیڑے کی نقاب کشائی کی ہے، جس میں سب سے نمایاں ایک خاموش، ڈسک کی شکل کا ‘یو ایف او’ (اڑن طشتری) ہے۔ یہ طیارہ شہری فضائی نقل و حمل کی نئی تعریف کر سکتا ہے۔
ہوبئی صوبے کے دارالحکومت ووہان میں، ہانگشان آڈیٹوریم کے باہر 24 فروری کو اس مستقبل کی جھلک عوام کے سامنے پیش کی گئی۔ اس عوامی مظاہرے میں ہزاروں لوگوں کی بھیڑ جمع تھی، جو شہر کے بیچوں بیچ ایک خاموشی سے اڑتی ہوئی ‘طشتری’ دیکھ کر حیران رہ گئے۔
شہر کے لیے ایک طشتری
یہ اڑن طشتری محض ایک دلچسپ شکل نہیں ہے بلکہ شہری ماحول کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انجینئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی اس کا مکمل طور پر بند روٹر سسٹم ہے۔ عام ڈرونز کی طرح کھلے پروپیلرز کے بجائے، اس طیارے کے تمام پرے (روٹرز) اس کی ڈسک کے اندر نصب ہیں۔
اس ڈیزائن کے دو اہم فائدے ہیں:
- حفاظت: راہگیروں، عمارتوں اور بجلی کی تاروں سے ٹکراؤ کا خطرہ ختم ہو جاتا ہے۔
- استحکام: تیز ہواؤں میں بھی طیارہ زیادہ مستحکم رہتا ہے۔
یہ طیارہ خاص طور پر شہری فضائی حدود میں کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ عمارتوں کے بالکل قریب سے یا زمین سے چند فٹ اوپر اُڑ سکتا ہے، جو اسے مصروف شہروں میں نیویگیشن کے لیے مثالی بناتا ہے۔
رفتار، طاقت اور خاموشی
یہ انوکھی ‘طشتری’ کارکردگی کے میدان میں بھی کوئی کم نہیں۔
- تیز رفتار ٹیک آف: یہ محض تین سیکنڈ میں ہوا میں بلند ہو سکتا ہے۔
- پے لوڈ کی گنجائش: اس کی زیادہ سے زیادہ پے لوڈ کی گنجائش 450 کلوگرام (992 پاؤنڈ) ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک ساتھ چار مسافروں کو لے جا سکتا ہے یا بھاری سامان کی نقل و حمل کر سکتا ہے۔
- خاموش آپریشن: روایتی ہیلی کاپٹروں کی دہاڑ کے برعکس، یہ طیارہ حیرت انگیز طور پر خاموش ہے، جو رہائشی علاقوں میں شور کی آلودگی سے بچنے کے لیے بہت اہم ہے۔
- کم جگہ میں لینڈنگ: اسے لینڈنگ کے لیے صرف چار کاروں کے برابر جگہ درکار ہوتی ہے، یعنی یہ شہر کی چھتوں یا چھوٹے پلیٹ فارمز پر بھی آسانی سے اتر سکتا ہے۔
ریسکیو مشن سے لے کر ایئر ٹیکسی تک
یہ مظاہرہ چین کی ‘کم اونچائی والی معیشت’ (Low-Altitude Economy) میں تیزی سے بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اشارہ ہے۔ ڈویلپرز نے اس طیارے کے استعمال کے لیے ایک واضح روڈ میپ پیش کیا ہے۔
ابتدائی طور پر، جب سرکاری اجازت نامے (ریگولیٹری اپروول) مل جائیں گے، تو یہ طیارے دو اہم کاموں کے لیے استعمال ہوں گے:
- فضائی ریسکیو مشنز: اونچی عمارتوں میں لگنے والی آگ بجھانے، یا دور دراز علاقوں سے لوگوں کو فوری طور پر نکالنے جیسے مشکل مشنز۔
- لاجسٹکس: شہر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ تیزی سے سامان پہنچانا۔
تاہم، ڈویلپرز کا طویل مدتی خواب اس سے کہیں بڑا ہے۔ ان کا منصوبہ ہے کہ اس خاموش اڑن طشتری کو شہری ہوائی نقل و حمل (Urban Air Mobility) کا حصہ بنایا جائے، یعنی یہ مستقبل قریب میں ایئر ٹیکسی کے طور پر کام کرتی نظر آئے گی۔
نتیجہ
ووہان میں کامیاب مظاہرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ‘اڑنے والی کاریں’ اب صرف سائنس فکشن کی ایجاد نہیں رہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے جو ابھی ہمارے شہروں میں آزمائی جا رہی ہے۔ اپنی خاموش پرواز، تیز رفتار ٹیک آف اور منفرد ڈیزائن کے ساتھ، چین کی یہ اڑن طشتری واقعی اتر آئی ہے—اور اب یہ ہمیں مستقبل کی سیر پر لے جانے کے لیے تیار ہے۔



